بھارتی آبی جارحیت دریائے چناب پر غاصبانہ قبضہ ،سینکڑوں ڈیمز بنانے کی وجہ سےپاکستان کی زمینیں بنجر

دریائے چناب پر بھارتی اآبی جارحیت جاری عالمی ادارے خاموش پاکستانی حکمرانوں کی پراسرار خاموشی پر کئی سوالیہ نشان. گرمی شروع ہونے کے باوجود بھی دریائے چناب میں پانی نہ آیا اور دریا بالکل سوکھ کر رہ گیا، پانی نہ ہونے کے برابر ، دریائے چناب سے سیراب ہونے والے دیہات ،علاقے و گردونواح میں دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی کیوجہ سے زیرزمین پانی کی سطح میں بھی نمایاں کمی، پانی کے بور بھی بند، عوام اور کسان پریشان۔ کاشتکاری میں کمی واقع ہونے لگی، کسان اپنا آبائی پیشہ چھوڑنے پر مجبور۔

دشمن پڑوسی ملک بھارت کی طرف سے گزشتہ کئی دہائیوں سے دریائے چناب پر غاصبانہ قبضہ اور سینکڑوں ڈیمز بنانے کی وجہ سے امسال خطرناک نتائج سامنے آ گئے اور پاکستان میں دریائے چناب سوکھ کر رہ گیا ہے اور دریائی پانی کی شدید کمی کے باعث مظفرگڑھ، خانگڑھ، وسندیوالی، روہیلانوالی، شہرسلطان سمیت دیگر درجنوں شہروں میں زیرزمین پانی کی سطح میں اچانک 30 فٹ سے بھی زیادہ کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسکی وجہ سے پانی کے بور بند ہو گئے ہیں اور عوام نے نئے سرے سے پانی کی دستیابی کیلئے بور کرانا شروع کردیئے ہیں اس بابت پاکستانی حکومت اور ملک پر کئی سالوں سے حکمرانی کرنے والے حکمرانوں کی سنگین غفلت بھی عوام کے سامنے آ چکی ہے اور ابھی سے ملک بھر میں خشک سالی شروع ہو چکی ہے جبکہ مستقبل قریب میں مزید خشک سالی کے اثرات کا خدشہ ہے جبکہ دریائے چناب میں پانی کی کمی کے باعث شعبہ زراعت جو کہ ملک کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی قرار دی جاتی ہے بالکل متاثر ہو گئی اس ضمن میں کسانوں کی رجسٹرڈ جماعت ایگری فورم پاکستان کے مرکزی صدر چوہدری احمدعلی اختر اور مرکزی انفارمیشن سیکرٹری مہرراشدنصیرسیال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تمام جماعتیں صرف اقتدار اور کرسی کی جنگ میں مصروف عمل ہیں اور پاکستان کے مستقبل کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جارہی جو کہ تشویشناک امر ہے انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پہلے ہی سیاست کی بھینٹ چڑھ چکا ہے جبکہ دیگر ڈیمز کی تعمیر کیلئے تاحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جارہی جبکہ بھارت سے دریائے چناب پر غاصبانہ قبضہ بھی چھڑانے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جو کہ قابل مذمت امر ہے انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے جبکہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ دریائے چناب پر بھارت کیطرف سے بنائے جانے والے غیرقانونی ڈیمز کی تعمیر کو فوری رکوانے کیلئے عالمی عدالت میں اپنے حق کیلئے راہ عامہ ہموار کرائیں تاکہ خشک سالی سے بچا جا سکے بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خشک سالی کے برے اثرات مرتب ہونے جا رہے ہیں کیونکہ اقتدار کی خاطر ملکی مفادات کو نظرانداز کردیا گیا ہے اور بھارت کو آبی دہشت گردی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جسکی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی سے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں جس کیلئے جنگی طور پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں جبکہ کاشتکاری میں کمی رونما ہو رہی ہے اور کسان طبقہ اپنے آبائی پیشہ کو خیرباد کہنا شروع کردیا ہے کیونکہ بجلی اور ڈیزل سے آبپاشی ممکن ہی نہیں#

اپنا تبصرہ بھیجیں