ایل ڈی اے میں مبینہ جعلسازی سے پلاٹوں کی لوٹ مار کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا.

کراچی…❗
ایل ڈی اے میں مبینہ جعلسازی سے پلاٹوں کی لوٹ مار کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا۔۔۔
ڈی جی کے عدم تعاون کے باعث تحقیقات نیا رخ اختیار کر گئی۔۔۔
ڈائریکٹر لینڈ یاور مہدی کیخلاف شروع کی گئی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔۔۔

محکمہ بلدیات سندھ نے پلاٹوں کی بڑے پیمانے پر بندر بانٹ کی اطلاعات پر کیس NAB اور ایف آئی اے کو بھیجنے پر غور شروع کردیا۔۔۔
صورتحال سنگین ہونے پر کرپٹ مافیا کا آلٹرنیٹ کے نام پر ٹھکانے لگائے گئے پلاٹوں کا ریکارڈ نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا انکشاف۔۔۔
اسٹیٹ ایجنٹس کا کوڑیوں کے مول خریدے گئے پلاٹس کو آلٹرنیٹ کراکر کروڑوں کمانے کا خواب بھی چکنا چور ہونے کا خطرہ۔۔۔
لیاری ڈیو لپمنٹ اتھارٹی تحقیقاتی اداروں کے ریڈار پر آگیا،پلاٹوں کی بڑے پیمانے پر بندر بانٹ پر شروع کی گئی تحقیقات میں ڈائریکٹر جنرل کے عدم تعاون پر محکمہ بلدیات سندھ برہم، ایل ڈی اے افسران کیخلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا،آلٹرنیٹ کے نام پر ٹھکانے لگائے گئے پلاٹوں کا ریکارڈ فراہم نہ کئے جانے پر ڈی جی ایل ڈی اے کو ریمائنڈ ارسال کردیا گیا،اربوں مالیت کے پلاٹوں کی لوٹ مار کا اسکینڈل نیب اور ایف آئی اے کو بھیجنے پر غور، اینٹی کرپشن پہلے ہی تحقیقات میں مصروف،لوٹ مار میں ملوث افسران کی گرفتاریوں کا امکان،صورتحال بگڑتی دیکھ کر آلٹر نیٹ کئے گئے پلاٹوں کا ریکارڈ نامعلوم مقام پر منتقل کئے جانے کا انکشاف،ایل ڈی اے کے پلاٹوں پر انکوائری شروع ہونے پر اسٹیٹ ایجنٹس کی بھی نیندیں اڑ کر رہ گئیں۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اربوں کی مبینہ لوٹ مار اور پلاٹوں کو جعلسازی سے ٹھکانے لگائے جانے کا پنڈورا بکس کھلتے ہی ایل ڈی اے تحقیقاتی اداروں کے چاروں جانب سے ریڈار پر آچکا ہے جس کے باعث ادارے میں ہونے والی بدعنوانیوں کے نت نئے انکشافات منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں،لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ یاور مہدی کیخلاف اینٹی کرپشن اور محکمہ بلدیات سندھ نے باقاعدہ تحقیقات شروع کررکھی ہیں تاہم مذکورہ تحقیقات میں ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے اطہر میرانی کی جانب سے عدم تعاون اور ریکارڈ فراہم نہ کئے جانے پر تحقیقات کا رخ تبدیل ہوکر رہ گیا ہے،ریکارڈ کی عدم فراہمی پر محکمہ بلدیات سندھ کے حکام بھی برہم ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے کی جانب کرپٹ افسران کی مبینہ سرپرستی کے باعث ان کا کردار بھی بری طرح مشکوک ہورہا ہے جس کے باعث محکمہ لوکل گورنمنٹ سندھ نے ریکارڈ کی عدم فراہمی پر ریمائنڈر لیٹر ڈی جی ایل ڈی اے کو ارسال کردیا ہے جبکہ دوسری طرف محکمہ بلدیات سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے ایل ڈی اے میں آلٹر نیٹ کے نام پر ٹھکانے لگائے گئے پلاٹوں کا اسکینڈ ل جو نظر آرہا ہے اس سے کئی گناہ بڑا ہے اور اس میں اربوں روپے کی مبینہ طور پر لوٹ مار کی گئی ہے ،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایل ڈی اے حکام کے عدم تعاون اور حاصل ثبوتوں کی بناءپر مذکورہ کرپشن،بدعنوانی اور لوٹ مار کے اسکینڈ ل کا کیس قومی احتساب بیورو(نیب) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجنے پر غور کیا جارہا ہے جس میں ملوث افسران کی گرفتاریوں کا بھی قوی امکان ہے،علاوہ ازیں تحقیقات میں تیزی آنے پر ایل ڈی اے میں بھی زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے،ذرائع نے انکشاف کیا ہے صورتحال سنگین ہوتی دیکھ افسران نے آلٹرنیٹ کئے گئے پلاٹوں کا ریکارڈ ایل ڈی اے کے ریکارڈ سے نامعلوم مقام پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے تاہم موجودہ تمام صورتحال کے باوجود ڈی جی ایل ڈی اے پراسرار طور پر خاموش ہیں ،ذرائع کا مزید کہنا ہے کوڑیوں کے مول پلاٹ خرید کر انہیں آلٹرنیٹ کراکر کروڑوں کمانے کا خواب دیکھنے والے اسٹیٹ ایجنٹس کی بھی موجودہ صورتحال میں نیندیں اڑ گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں