امریکی فضائیہ کے سپاہی نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود کو آگ لگا کر فلسطین کے حق میں احتجاج ریکارڈ کرایا

امریکی فضائیہ کے ایک سپاہی نے آج واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود کو آگ لگاتے ہوئے کہا: “غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر میں مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔
” سپاہی نے کچھ لوگوں کو ای میل کرتے ہوئے کہا: ’’آج میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف سخت ترین احتجاج کروں گا۔‘’ اور پھر کرکے دکھایا۔ اگرچہ خود سوزی درست نہیں، لیکن اس امریکی فوجی کے ضمیر کو سلام۔ 57 مسلم حکمرانوں سے یہ فوجی اخلاقی طور پر بہتر نکلا۔


مریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک شخص زمین پر مائیک اور اسپیکر رکھتا ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ سیکیورٹی اہلکار اس شخص کو روکتے وہ خود پر پٹرول انڈیل کر آگ لگا لیتا ہے اور خود سوزی کی حالت میں آزاد فلسطین کے نعرے لگاتے ہوئے بری طرح جھلس کر زمین پر گر جاتا ہے۔
سیکیورٹی اہلکار کی بروقت امدادی کاموں کے باعث مذکورہ شخص کو پوری طرح جلنے سے بچالیا جاتا تھا تاہم اسپتال میں اس کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے جس کی شناخت ایرون بشنیل کے نام سے ہوئی اور وہ امریکی فضائیہ کا اہلکار ہے۔

امریکی فضائیہ کے اہلکار نے زخمی حالت میں بیان دیا کہ میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی میں شامل نہیں رہوں گا۔
پولیس اور فائر حکام کے مطابق، ایک فلسطینی جھنڈا برآمد ہوا، اور پٹرول کو تیز رفتاری کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے میں سفارت خانے کا کوئی عملہ زخمی نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں