اسلام و دیگرمذاہب میں روزہ کا تصور


اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے جیسی عبادت کا مقصد تقویٰ یعنی پرہیز گاری کا حصول ہے۔ دیگر مذاہب روزے کو الگ نظر سے دیکھتے ہیں ، تاہم اسلام میں موجود روزے کا تصور مسلمانوں کے نقطہ نظر سے زیادہ بہتر اور قابلِ تقلید ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘ (سورۃ البقرہ) مذکورہ آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا ۔

کتبِ حدیث و تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ ایامِ جاہلیت میں دسویں محرم کو اس لیے روزہ رکھتے تھے کہ اس دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا (صحیح بخاری) مدینے میں یہود اس دن اس لیے روزہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو اس دن فرعون سے نجات دی تھی (صحیح بخاری) ان روایات سے پتا چلتا ہے کہ شریعت محمدی ﷺ سے قبل اُمتوں میں بھی بحیثیت عبادت روزہ معروف اور جانا پہچانا تھا ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہودی اور عیسائی روزہ گناہ کے کفارے کے طور پر یا توبہ کی خاطر یا پھر دیگر مقاصد کے لیے رکھتے تھے اور ان کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا ۔ یعنی ان لوگوں نے روزے کی اصل مقصدیت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اسے اپنے مخصوص مفادات کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا ، مگر اسلام نے انسانیت کو روزے کے بامقصد اور تربیتی نظام سے آشنا کیا ۔ دیگر ادیان و مذاہب میں روزہ کی ابتداء اور مشروعیت کے اسباب و علل جوکچھ بھی ہوں بہرحال وہ مذہب اسلام میں روزہ کی مشروعیت کے سبب کا کسی بھی صورت ہم سری کا دعویٰ نہیں کر سکتے ، اسلام تو یہ کہتا ہے کہ روزہ کی مشروعیت اور اِس کی غرض یہ ہے کہ اِس کے ذریعہ اِنسان متقی و پرہیزگار بن جائے، اُس میں خشیت و للہیت پیدا ہو جائے، وہ عاجزی و مسکنت کا پیکر بن جائے، اور اُس کے دل و دماغ میں مخلوقِ خدا کے لیے ایثار و ہم دردی کا چراغ رُوشن ہو جائے۔

چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ترجمہ: اے ایمان والو! پہلی قوموں کی طرح تم پر بھی اِس لیے ’’روزہ‘‘ فرض کیا گیا ہے تاکہ تم متقی اورپرہیز گار بن جاؤ!۔‘‘’’روزہ‘‘ کی اصل حقیقت اور حقیقی روح صحیح معنوں میں اگرچہ اِس وقت مذہب اسلام کے علاوہ دوسرے کسی بھی دین اور مذہب میں نہیں پائی جاتی تاہم رسمی حیثیت سے روزہ رکھنے کا رواج فی الجملہ روئے زمین پر بسنے والی تقریباً تمام ہی اقوام عالم میں پایا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے روزہ روحانی طاقت کے حصول کا ذریعہ رہا ہے۔

قدیم زمانے کے لوگ خدائے واحد کے وجود سے لاعلم ضرور تھے، لیکن ان کے ذہن میں کسی نہ کسی ایسی ہستی اور طاقت کا تصور ضرور موجود تھا جو ان کی تقدیر پر دسترس رکھتی تھی اور انہیں صحیح اور غلط کے درمیان تمیز سکھا سکتی تھی، یہی وجہ ہے کہ لوگ روحانی پاکیزگی کے حصول، گناہوں سے توبہ و استغفار، ایثار و قربانی ، کفارہ گناہ اور طاقت و علم میں اضافے کے لیے روزے کو ایک عبادت کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس عبادت کی ادائیگی کے دوران بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ اس کے روحانی پہلو پر بھی اتنی ہی توجہ دی جاتی تھی۔

روزہ اسلام کے 5 ستونوں میں سے ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ روزہ تمام بالغ مسلمانوں پر فرض ہے جن میں سمجھدار بچے جو بلوغت کے قریب ہوں ، مرد اور خواتین سب شامل ہیں، قرآنِ پاک روزے کی فرضیت کی سب سے بڑی دلیل فراہم کرتا ہے جس کے مطابق مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں پورے مہینے کے روزے رکھیں تاہم بیمار اور مسافر افراد کو روزے سے رخصت بھی دی گئی ہے ۔

ایسے افراد کو رمضان المبارک کے بعد دیگر مہینوں میں روزے رکھ کر گنتی پوری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، روزے کا تصوّر کسی نہ کسی صورت میں دُنیا کے تقریباً ہر مذہب اور ہر قوم میں پا یا جاتا ہے‘‘ (تفسیر ماجدی) بد ھ مت کے قریباً تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سال میں چند روز ضرور روزہ رکھتے ہیں ۔ مورمونز سے تعلق رکھنے والے افراد ہر مہینے کے پہلے اتوار کو روزہ رکھتے ہیں۔

بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بہائی سال کے 19ویں مہینے میں،جو ’’ایلا‘‘ کہلاتا ہے ، یعنی 2 سے 20 مارچ تک روزے رکھتے ہیں ۔ جین مت میں روزے کی سخت شرائط ہیں اور ان کے ہاں 40،40 دن تک کا روزہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، پارسیوں کے ہاں بھی روزے کا تصور موجود ہے۔ یہودیت میں دو روزے فرض ہیں، جن میں’’یوم کپور‘‘(یومِ کفارہ) اور’’تشاباؤ‘‘ کا روزہ شامل ہے۔ یہ روزہ غروبِ آفتاب سے اگلے روز اندھیرا چھا جانے تک ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ تقریباً 25گھنٹے ہوتا ہے ۔ یہودیوں کے روزے میں کھانے پینے، نہانے، چمڑے کے جوتے پہننے، کریم یا لوشن، تیل یا پرفیوم استعمال کرنے اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی ممانعت ہوتی ہے ۔

اس کے علاوہ بھی 4 روزے ہیں، جو صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہوتے ہیں ۔ نیز، یہودی مذہبی رہنماؤں کی صوابدید پر بھی کچھ روزے رکھے جاتے ہیں ۔ یہودی دولھا اور دلہن پاکیزگی اور تقدس کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے لیے اپنی شادی کے دن روزہ رکھتے ہیں، یہودی ہر جمعرات اور پیر کو روزہ رکھتے ہیں ۔

ان کا عقیدہ ہے کہ موسیٰ ؑ جمعرات کو طور سینا پر گئے اور پورے 40 روز بعد پیر کو واپس آئے ۔ علامہ شبلی نعمانی اورسید سلیمان ندوی اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف، سیرت النبیﷺ کی جلد سوم میں لکھتے ہیں کہ ’’یہودیوں میں روزہ فریضہ الٰہی ہے ۔ حضرت موسیٰؑ نے کوہ طور پر 40 دن بھوکے پیاسے گزارے ، چنانچہ عام طور سے یہود حضرت موسیٰؑ ؑ کی پیروی میں 40 دن روزہ رکھنا اچھا سمجھتے ہیں، لیکن 40 دن کا روزہ ان پر فرض ہے، جو ان کے ساتویں مہینے (تشرین) کی دسویں تاریخ کو پڑتا ہے ۔ اسے عاشورہ (دسواں) بھی کہتے ہیں ۔ اسی دن موسی ٰ ؑ کو تورات کے10 احکامات عنایت ہوئے، اسی لیے تورات میں روزے کی نہایت تاکید آئی۔ ان کے ہاں روزے کا ایک مقصد روحانیت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے جسمانی سرگرمیوں کو کم کرنا ہے۔‘‘

عیسائیت میں ابتدائی دور کے عیسائی ایسٹر سے پہلے 40 دن تک روزے رکھتے تھے، مگر اتوار کا استثنیٰ ہوتا تھا ۔ انجیل کی تعلیمات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے 40 دن اور 40 رات روزے رکھے تھے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے روزے کے بارے میں اپنے حواریوں کو یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ روزہ خوش دلی کے ساتھ رکھا جائے ، چہرہ اداس نہ بنایا جائے اور نہ ہی بھوک و پیاس سے پریشان ہو کر چہرہ بگاڑا جائے ۔ بائبل میں لفظ، روزہ (fast) عبرانی زبان کے لفظ، سم (sum) سے اخذ کیا گیا ہے ، جس کا مطلب ہے، ’’منہ کو ڈھکنا‘‘ یا یونانی لفظ ، nesteuo سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ’’پرہیز کرنا‘‘ ہے ۔ عیسائیت میں روزہ رکھنے کا اصل مقصد کھانے پینے سے مکمل پرہیز ہے ۔ عیسائیت میں 7 قسم کے روزے ہیں ، جن میں The JESUS,THE PAUL,THE APOSTLE,THE MOSES,THE JOHN,THE BAPTIST, THE JOEL, اورTHE JONAH کے نام سے موسوم روزے شامل ہیں ۔آج کل عیسائیوں کے مختلف فرقوں میں روزوں سے متعلق الگ الگ نظریات پائے جاتے ہیں ۔ کیتھولک سے تعلق رکھنے والے افراد ’’ایش وینس ڈے‘‘ اور ’’گڈ فرائیڈے‘‘ کو روزہ رکھتے ہیں اور نفس کشی کی مدّت میں آنے والے تمام جمعے کے دنوں میں گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں ، جب کہ پروٹسٹنٹ فرقے میں اب روزے کو انسان کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

ہندو مت میں برت (روزہ) مذہب کے بنیادی معمولات میں سے ہے۔ اس مذہب کے پیرو کاروں کو دیوی اور دیوتاؤں کی خاطر ہفتے میں ایک ، دو یا تین مرتبہ برت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر ہندی مہینے کی گیارہ اور بارہ تاریخ کو اکاوشی کا روزہ ہوتا ہے اوراس حساب سے سال میں 24 روزے بنتے ہیں ۔ سماجی حیثیت سے قطع نظر، 8 سال سے 80 برس تک کے تمام افراد کواس دن کھانے اور پانی دونوں سے پرہیز کرنا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، نئے چاند کے موقعے پر، شیوراتری اور سرسوتی جیسے تہواروں پر برت رکھنا عام ہے۔

بعض جوگی چلّہ کشی کرتے ہیں، یعنی چالیس دن تک کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں ، جب کہ بعض برہمن کارتک کے ہر پیر کو برت رکھتے ہیں۔ بعض برت صرف خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ مثال کے طور پر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہندو خواتین کارتک کے مہینے میں پورے چاند کی چوتھی رات میں اپنے شوہر یا منگیتر کی صحت ، تندرستی اور طویل عمرکے لیے ’’کڑوا چوتھ‘‘ نامی تہوار مناتی اور اس دن برت رکھتی ہیں ۔ پھر وہ دن ختم ہونے پر چاند کو چھلنی کے ذریعے دیکھ کر اپنے شوہر یا منگیتر کی شکل دیکھنے کے بعد برت کھول لیتی ہیں ۔

ہندومت میںروزے کا بنیادی مقصد روحانی فواید حاصل کرنا ہے۔ عموماً برت کا دورانیہ طلوعِ آفتاب سے غروب ِآفتاب تک 12گھنٹے یا رات12بجے سے اگلی رات 12بجے تک یعنی 24 گھنٹے ہوتا ہے ۔ روزہ کا بنیادی مقصد قرآن مجید نے جو بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی برکت سے (بعید نہیں کہ) متقی اور پرہیز گار بن جائے گا اس کے اندر خوف خدا پیدا ہو ۔ دل کدورتوں، گندگیوں، آلائشوں اور برے خیالات و تصورات سے پاک ہو جائے ۔ الغرض روزہ کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ اور دل کی پرہیز گاری اور صفاء ہے ۔

تقویٰ کیا ہے؟ اس کی تعریف کرتے ہوئے علامہ سید سلیمان ندوی ؒ فرماتے ہیں: ’’تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک باتوں کی طرف اس کو بے تابانہ تڑپ ہوتی ہے۔‘‘ امام غزالی ؒفرماتے ہیں’’روزہ صرف یہی نہیں کہ کھانا، پینا اور جماع ایک وقت مخصوص سے ایک وقت مخصوص تک نہ کی جائے، یہ تو محض روزہ کی شکل و صورت ہے ، اصل روزہ یہ ہے کہ زبان برائیوں سے رک جائے، کان غیبت سے باز آجائیں،آنکھ ناجائز چیزوں کو نہ دیکھے، ہاتھ ظلم و زیادتی سے رک جائیں، پاوں حرام کی طرف چلنے سے انکار کریں اور ان سب کے بادشاہ دل و دماغ خلاف شرع باتوں کے سوچنے اور سمجھنے تک کی قوت سے محروم ہو جائیں ۔‘‘رض قرآن مجید نے روزہ کا اہم اور بنیادی مقصد یہ بیان کیا ہے کہ روزہ متقی اور پرہیز گار بننے کا ذریعہ ہے، روزہ رکھنے سے روزہ دار کے اندر خوف و خشیت پیدا ہوتی ہے اور وہ خلاف تقویٰ چیزوں سے بچتا ہے۔

قرآن مجید میں روزہ کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’شاید کہ تم متقی و پرہیز گار بن جاؤ ۔‘ یہ نہیں فرمایا کہ اس سے ضرور متقی و پرہیز گار بن جاؤ گے ۔ اس لیے کہ روزے کا یہ نتیجہ تو آدمی کی سمجھ بوجھ اور اس کے ارادے پر موقوف ہے جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے ذریعہ سے اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو تھوڑا بہت متقی بن جائے گا ۔ مگر جو مقصد ہی کو نہ سمجھے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کرے گا اسے اس سے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزے کو اس کی روح اور حقیقت اور ظاہر و باطن کی خوبیوں کے ساتھ رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں