محل کا مبہوت کرتا حُسن، چرچ کی پُراسرار فضا


(ترکی کا سفرنامہ۔۔۔ نواں پڑاؤ)

ہزار لیرا میرے منہ سے بے ساختہ نکلا، عزیز نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا ’’اماں آہستہ بولیں، کوئی سن لے گا تو کیا کہے گا۔ دیکھ رہی ہیں کتنی لمبی لائن ہے۔ یہ سب بھی ٹکٹ لے کر اندر جارہے ہیں، کوئی مفت میں نہیں جارہا ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’بیٹا جی! یہ جو چھوٹی چھوٹی نیکریں اور بغیر آستین کی بنیانیں پہنیں مرد اور عورتیں ہیں یہ سب ڈالر، پونڈ اور یورو والے ہیں۔ ہماری طرح آئی ایم ایف کے قرض دار نہیں ہیں۔ ہمارے تو سوروپے میں بھی ایک لیرا آتا ہے ایک بندے کا ٹکٹ بھی دس ہزار کا ہوا کہ نہیں۔‘‘
اور میں غریبوں کی محبت کا مذاق اڑانے والوں کے محلات نہیں دیکھنا چاہتی چلو چل کر 50 لیرا کا پیزا کھاتے ہیں اور چائے پیتے ہیں اور مفت میں سمندر کی لہریں گنتے ہیں اس پرکوئی ٹکٹ نہیں ہے۔

’’اس کا مطلب ہے آپ ٹکٹ کے پیسے دینے کا ارادہ نہیں رکھتیں لیکن پیزا اور چائے تو آپ کی طرف سے پکی ہے۔‘‘ عزیزاپنی بات منوانے کا ماہر ہے۔ میں نے اقرار میں سرہلادیا اور سمجھی کہ بلا سر سے ٹل گئی مگر وہ تیزی سے ٹکٹ گھر کی طرف بڑھ گیا۔ جب واپس آیا تو ہاتھ میں دو ٹکٹ تھے۔ ’’عزیز صاحب! آپ نے اماں سے کتنا مال چھپاکر رکھا ہوا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’جب ہم آرہے تھے تو ابا نے کچھ یورو دیے تھے یہاں ڈالر، پونڈ نہیں لیتے مگر یورو فوراً لے لیتے ہیں۔‘‘ لیرا کے بعد یورو دوسری کرنسی ہے جس میں ہم ترکی میں آسانی سے لین دین کرسکتے ہیں۔ عزیز کو یہ بات معلوم تھی مگر مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔

ہم دونوں لائن میں جاکر کھڑے ہوگئے۔ وہاں گروپ کی صورت میں وہ لوگوں کو اندر بھیج رہے تھے اور ان کو ایک گائیڈ فراہم کردیتے تھے۔ جو اس گروپ کو محل کے مختلف حصّے دکھانے لے جاتا تھا اور ساتھ ساتھ معلومات بھی فراہم کررہا تھا۔ مرد گائیڈ اور گائیڈ عورتیں بھی تھیں جو بہت بہترین انگریزی بول رہی تھیں۔ لباس بھی انگریزیت زدہ تھا۔ استنبول کا مغربی حصہ مشرقی حصے سے زیادہ خوش حال ہے اور تعلیمی معیار بھی بلند ہے۔ استنبول کی بہترین یونیورسٹیاں بھی اس طرف موجود ہیں۔ Dolmabahce کے شاہی محل بننے سے پہلے تو توپ کاپی شاہی محل ہوا کرتا تھا۔ اسے بعد میں میوزیم بنا دیاگیا تھا۔ اس کے بعد جب ترکی کے جمہوریہ بننے یعنی 1922ء تک یہ سلطان کی رہائشی محل رہ چکا تھا۔ یہ محل 1843-1856ء میں تعمیر ہوا اور مختلف ادوار میں اس کی تعمیر ہوتی رہی۔ کمال اتاترک نے بھی اپنے آخری ایام 1938ء تک اسی محل میں گزارے تھے۔

ملکہ وکٹوریہ نے ایک شیشے کا فانوس سلطان کو تحفے میں دیا تھا جس کا وزن 4.5 ٹن ہے اور روشنی کے لیے اس میں 750 لائٹ لگی ہوئیں ہیں اور یہ محل کے خاص ہال میں نصب ہے۔ ویسے تو ریسرچ کے طالب علموں کو تمام معلومات گوگل بھیا فراہم کر ہی دیتے ہیں مگر wiki pedia بھائی بھی کسی سے کم نہیں ہیں وہ بھی کسی سے کچھ نہیں چھپاتے مگر ہمیں تو ساری معلومات اس ٹرکش گائیڈ نے فراہم کردی تھیں جس کا صرف سر ڈھکا ہوا تھا اور تمام مردوں کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔ غور کرنے پر معلوم ہوا وجہ ہماری گائیڈ کی چست پتلون تھی جس سے ان کی نظریں ہی نہیں ہٹ رہی تھیں۔ خیر وہ آگے آگے ہم پیچھے، جس پھرتی سے وہ معلومات فراہم کررہی تھیں، اسی پھرتی سے وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے کے چکر لگوا رہی تھیں۔ خیر مبہوت تو سب ہی محل کی خوب صورتی دیکھ کر ہوچکے تھے۔ ہم داخلے کے وقت سے ورطۂ حیرت میں تھے جیسے کسی طلسم ہوش ربا میں داخل ہوگئے ہوں۔ ہم نے تاج محل کی خوب صورتی کے متعلق سن رکھا تھا اور اب اندازہ ہورہا تھا کہ یہ محل بھی کسی تاج محل سے کم نہیں تھا۔

مگر یہ ایک رہائشی محل تھا جس کے صرف 285 رہائشی کمرے ہیں اور سب سمندر کے رخ پر ہیں ایک وزٹ میں 285 کمرے دیکھنا ناممکن ہے۔ اس کا احساس انتظامیہ کو بھی تھا اس لیے انہوں نے سیاحوں کے لیے صرف چند کمرے کھول رکھے تھے۔ وہ بھی اس اصول پر کہ ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘ نہ ہم کسی چیز کو چھوسکتے ہیں، نہ کرسی پر بیٹھ سکتے ہیں، ورنہ کیا برا تھا کہ جس کرسی پر سلطان Abdulmecid بیٹھتے تھے اس پر ہم بھی چند لمحے بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کرلیتے، جہاں سلطان کی تیسری چوتھی ملکہ آرام فرماتی تھیں اس چھپرکٹ پر بندی بھی کچھ لمحے آرام کرلیتی، وہ کون سا آسمان سے ہمیں دیکھ رہی تھیں مگر وائے افسوس ہم تو چھے سات صدی بعد بھی ان شاہانہ میز کرسیوں کو چھونے کی جسارت نہیں کرسکتے تھے۔ ہاں البتہ محل کے باغ میں کھڑے ہوکر لمبی لمبی سانس ضرور بھریں۔

ہمیں تو محل سے زیادہ باغ کی خوب صورتی اور ترتیب نے متاثر کیا۔ کم از کم یہاں بندہ کھل کر اپنی مرضی سے سانس تو لے سکتا تھا اور میں تو یہ سوچ رہی تھی کہ ہم جیسے آزاد منش بندے ان کمروں میں سانس کیسے لیتے ہوں گے۔ ہماری بزرگ خواتین اپنی بچیوں کو دعائیں دیتی تھیں، جگ جگ جیو محلوں، کی شہزادی بنو، بے چاری سادہ لوح خواتین انہیں کیا معلوم کہ محلوں کی شہزادی بننا آسان نہیں ہوتا۔ سانس بھی دوسروں کی مرضی سے لینا پڑتا ہے۔

Dolmabahce کا کل رقبہ ایکڑ acres 11.1ہے۔ محل میں داخل ہوتے ہی ایک باغات کا سلسلہ ہے جس کے اندر درخت اور پھولوں کے تختے اتنی ترتیب میں لگے ہوئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی مصور کا شاہ کار ہیں، اس محل کے خاص شاہ کار میں شیشے کا فانوس جو ملکہ وکٹوریہ نے تحفے میں دیا تھا اور دوسری خصوصی Crystal Staircase ہیں۔

اس محل کی اندرونی آرائش میں 14ٹن سونا اور ڈیکوریشن کے لیے 100کلو سونا استعمال کیا گیا۔ اسی حساب سے وہاں 68 ہاتھ روم اور چھ عدد شاہی حمام ہیں۔

مجھے تو یہ حیرت ہورہی تھی کہ جو بادشاہ اپنے محل کی چھتوں اور دیواروں پر اتنا سونا لگا سکتے ہیں ان کے خزانے کتنے بھرے ہوئے ہوں گے۔

محل سے باہر آنے کے بعد تو یہ باہر کی دنیا کتنی مختلف نظر آنے لگی تھی۔ ہم سمندر کے رخ پر ایک واچ ٹاور پر آکر بیٹھ گئے۔ ہم سے پہلے بھی وہاں جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے شاید وہ ہماری طرح کچھ دم لینے کو وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ شاید وہ بھی ہماری طرح خود کو اپنی دنیا میں واپس لانے کی کوشش کررہے تھے۔

کچھ دیر جب حواس بحال ہوئے تو پیٹ پوجا کا خیال آیا اور ہم سمندر کے کنارے بنے ریسٹورینٹ میں آگئے۔ سمندر کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی مگر کھلا آسمان ہونے کی وجہ سے سردی کا احساس نہیں ہورہا تھا۔ ابھی ہم آکر بیٹھے ہی تھے کہ ایک میز سے، جو ہمارے پیچھے کی طرف تھی کسی بچے کے چیخنے کی آواز آئی ایک سمندری پرندہ Sea Gull اس کے ہاتھ سے برگر چھین کر جاچکا تھا۔ یہ سمندر میں اُڑتے ہوئے سفید براق پرندے دور سے کتنے خوب صورت لگتے ہیں حقیقت میں یہ نڈر بحری قزاق ہیں اور چھوٹی موٹی چھینا جھپٹی کرنا تو ان کے نزدیک معمولی بات ہے۔ وہ اکثر ریلنگ پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور کسی کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر کوئی چیز چھین کر لے جاتے ہیں۔ یہ ان کی عادت ہوگئی ہے ورنہ سمندر میں خوراک کی کمی تو نہیں ہوگی یا پھر ایک ہی طرح کے ذائقے کی مچھلیاں کھاتے کھاتے اکتا جاتے ہوں گے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کھلی چھینا جھپٹی کے باوجود کوئی انہیں وہاں سے بھگاتا بھی نہیں ہے۔ ہم نے جلد سے جلد کھانا ختم کیا اور بس اسٹاپ آگئے۔ اسٹاپ یہاں سے زیادہ دور نہیں تھا، یہاں سے ہم کو کارڈ ری نیو کروانا تھا، کیوںکہ رقم ختم ہوچکی تھی لیکن ہم سے پہلے لائن میں آسٹریلین خواتین لگی ہوئی تھیں وہ جب بھی مشین میں نوٹ ڈالتیں مشین نوٹ تو لے لیتی مگر کارڈ واپس نہیں آتا تھا۔ وہ تو اس کو بھی انجوائے کررہی تھیں ان کے ساتھ مسئلہ زبان کا بھی تھا۔ یہ چار خواتین کا گروپ تھا جن کی عمریں چالیس اور پینتالیس سال کے درمیان تھیں اور پیلس کے وزٹ کے دوران وہ ہمارے گروپ میں شامل تھیں اور جب ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا تو کبھی عزیز سے، کبھی مجھ سے پوچھتی تھی۔ ایک خاتون تو نوٹ بھی کرتی جاتی تھی۔ ہمیں وہاں دیکھتے ہی انہوں نے عزیز کا ہاتھ بے تکلفی سے پکڑ کر مشین کے سامنے کردیا۔ معلوم ہوا پانچواں نوٹ ہے جو مشین نے غائب کیا ہے۔ عزیز نے نوٹ مشین میں ڈالا اور کارڈ میں رقم ڈلواکر ان کے حوالے کردی۔

اب ان خواتین کا حال یہ تھا کہ ایک عزیز کے کاندھے سے لگی قہقہے لگا رہی تھی۔ دوسری عزیز کا بازو پکڑے ہنس رہی تھی، تیسری اور چوتھی بھی اس انتظار میں تھی کہ یہ دونوں ہٹیں تو ہم بھی اپنی باری لے لیں اور عزیز اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے شرمایا ہوا کھڑا تھا وہ تو شاید اپنی بے وقوفی پرہنس رہی تھیں مگر عزیز کی حالت دیکھ کر مجھے بھی اپنی ہنسی پر قابو رکھنا مشکل ہورہا تھا۔ مجھے تو مستنصر حسین تارڑ یاد آگئے جن کے سفرناموں میں اکثر خواتین کی زلفیں ان کے کاندھے پر پریشاں ہوجاتیں۔ بمشکل تمام انہوں نے عزیز کا بازو چھوڑا اور Thank youThank you کرتی اسٹاپ کی بھیڑ میں غائب ہوگئیں۔ عزیز نے کارڈ میں رقم ڈالنے کے بعد پلٹ کر مجھ سے کہا،’’عجیب خواتین تھیں، نہ جان نہ پہچان خوامخواہ بے تکلف ہورہی تھیں اور آپ کیوں ہنس رہی تھیں، میرا مذاق اڑا رہی تھیں اس کا منہ بن گیا تھا۔‘‘

’’تمہاری بے بسی پر ہنسی آرہی تھی۔ اصل میں ان کا طریقہ ایسا ہی ہے اور ہمارے معاشرے کے مرد سمجھتے ہیں کہ ان پر فدا ہورہی ہیں۔‘‘

’’مجھے تو آپ کے سامنے شرمندگی ہورہی تھی۔ خیر میں ایسا نہیں ہوں انہوں نے تو خود ہی مجھے آگے کردیا تھا۔ ویسے اماں آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ سفر میں انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ملکوں ملکوں کے لوگ ملتے ہیں ان کی عادت، مزاج اور طور طریقوں کا بھی معلوم ہوتا ہے۔‘‘

اب عزیز کا موڈ ٹھیک ہوچکا تھا۔ ہمارے روٹ کی بس آچکی تھی۔ عزیز نے بورڈ دیکھ کر معلوم کرلیا تھا۔ اب عزیز تمام ہدایات بہ آسانی پڑھ لیتا تھا کیوںکہ وہ جو تُرک زبان سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کا سوفٹ ویئر ہے، اس سے ترجمہ بھی کرلیتا تھا، مگر تُرک زبان سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

ہمارا اگلا اسٹاپ baygulu تھا کیوںکہ یہاں سے بس کو استنبول کے رہائشی علاقے کی سمت جانا تھا مگر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اصل baygulu جانے کے لیے کافی پیدل چلنا پڑے گا وہ بھی اونچائی کی طرف۔

جانے والے لوگوں نے اپنی اپنی اسکوٹی اسٹینڈ سے لے لی تھیں اور پُھرپُھر کرکے ہمارے سامنے سے گزرتے چلے گئے۔ کیا شان دار سواری ہے جو مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ حالاں کہ فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ سڑکیں پتھریلی تھیں اور عام سڑکوں سے چوڑائی خاصی کم تھی اور جو دکانیں تھیں وہ ڈیزائنرشاپ تھیں جو آفس بھی تھے اس لیے رش بھی نہیں تھا اور شاید اس علاقے میں گاڑی وغیرہ کا عام داخلہ بھی نہیں تھا مگر چڑھائی ایسی تھی کہ جیسے عمودی پہاڑی پر چڑھ رہے ہیں ہم نے تھوڑا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ تھک گئے۔ یہ کچھ عجیب سی پراسرار جگہ تھی۔ یہ ایک طویل دیوار تھی کہیں سے اونچی اور کہیں سے نیچی اندر جنگل سا نظر آرہا تھا اور اس کے درمیان سے صلیبیں نظر آرہی تھیں۔

ہم سمجھے کہ یہ کوئی عیسائی قبرستان ہے ذرا اور اوپر کی طرف آئے تو سامنے ایک بڑا سا سیاہ لوہے کا گیٹ تھا جو کھلا ہوا تھا اور سیڑھیاں جو نیچے کی طرف جارہی تھیں اور سیڑھیوں کے ختم ہوتے ہی چرچ تھا جس کے سامنے پندرہ بیس فٹ لمبا چوڑا پلیٹ فام تھا جس کے بعد چرچ کی اصل عمارت شروع ہوتی تھی ۔ عزیز نے فوری طور پر گوگل بی بی سے رابطہ کیا۔ نقشہ کھلتے ہی جو جگہ نظر آئی وہ واقعی حیران کن تھی۔

یہ وہ چرچ تھا جو کریمین وار کے انگریز فوجیوں کی یاد میں بنایا گیا تھا اور ابھی بھی انگلینڈ کی حکومت کے زیراثر تھا۔ یہ گوتھک اسٹائل میں بنا ہوا چرچ تھا اور چاروں طرف سے باغ سے گھرا ہوا تھا۔ اس باغ میں مختلف پرندے ابھی بھی موجود تھے اور ایک درخت سے دوسرے درخت تک اڑتے پھررہے تھے۔ ان کی آوازوں سے اس چرچ کی پراسرار فضا اور پراسرار لگ رہی تھی میں تو وہیں سیڑھیوں پر کنارے ہوکر بیٹھ گئی۔ میرے سیدھے ہاتھ پر کچھ مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں اور ادھر ہی ایک گوتھک طرزتعمیر پر بنی کوٹھری تھی مگر وہاں بھی پراسرار سی خاموشی تھی۔

عزیز نے کہا میں اندر دیکھ کر آتا ہوں۔ دروازہ کھلا ہوا تھا جو چرچ کے اندر جاتا تھا مگر اندر کوئی نہیں تھا۔ سیڑھیوں سے اندر کا چرچ نظر آرہا تھا۔ جب عزیزکو گئے دیر ہوگئی تو میں بھی وہاں چلی آئی۔ عزیز اندر موجود تھا اور جائزہ لے رہا تھا۔ گوتھک طرزتعمیر کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کی چھتیں بہت اونچی ہوتی ہیں۔ اندر کھڑکیاں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ وہ مجھے دیکھ کر حیرانی سے بولا۔ اماں میں سمجھ رہا تھا آپ اندر نہیں آنا چاہتیں، اس لیے میں نے اصرار نہیں کیا۔ ’’کیوں؟‘‘ میں اس کی بات سن کر خود بھی حیران ہوگئی۔ ’’اس لیے کہ جب آپ راجا رنجیت سنگھ کی سمادھی پر گئی تھیں تو آپ اور رابعہ کس طرح جلدی سے باہر آگئی تھیں۔ میں اور فہد بھائی تو پورا وزٹ کرکے باہر آئے تھے۔

’’تو اس گائیڈ نے ہم کو کتنا ڈرایا تھا ایک کمرے کے سامنے کھڑا ہوکر کہہ رہا تھا ہمارے گرونانک کا دیہانت نہیں ہوا ہے، وہ زندہ ہیں اور روز رات کو اس کمرے میں آکر آرام کرتے ہیں۔ پھر ایک چبوترے کے سامنے لاکر کہنے لگا یہاں رنجیت سنگھ کی سمادھی کو آگ دی گئی تھی اور اس کی چھے کی چھے بیویاں اس کے ساتھ ستی ہوگئی تھیں ۔ اب اس کنویں کو پاٹ کر اس پر چبوترا بنا دیا گیا ہے اور اس پر بیٹھ کر گروکاگرنتھ ہوتا ہے۔ اب بندہ ڈرے گا نہیں تو کیا ہوگا۔‘‘

عزیز کہنے لگا،’’ڈر تو مجھے بھی لگا تھا مگر فہد بھائی اور آپ لوگوں کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا تھا مگر غلطی گائیڈ کی تھی کہ وہ اچھی باتیں بتانے کے بجائے ڈرا رہا تھا۔‘‘

میں نے کہا حالاںکہ ہمارے بنی پاکﷺ کی ہدایت ہے کہ تمام مذاہب اور ان کی عبادات کا احترام کرنا چاہیے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ہمارے بھی نبی ہیں اور قرآن پاک میں بی بی پاک مریمؑ کا ذکر بھی موجود ہے مگر یہاں کوئی ہے نہیں اس لیے عجیب سا لگ رہا ہے چلو واپس چلتے ہیں۔

مگر اسی وقت پچھلا دروازہ کھلا اور ایک صاحب اندر داخل ہوئے اور معذرت کرتے ہوئے انگریزی میں کہا۔

بہت معذرت مجھے آنے میں دیر ہوگئی مجھے جیسے ہی اطلاع ملی کہ وزیٹر آئے ہوئے ہیں میں نے جلد سے جلد آنے کی کوشش کی۔ اس نے عزیز سے ہاتھ ملایا مجھے well come کرتے ہوئے تعظیم کے لیے تھوڑا جھک گیا پھر خود ہی بولا اصل میں یہاں صرف سنڈے کی سروس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی شادی کے لیے آجاتا ہے یا بپتسمہ کے لیے لوگ اپنے بچوں کو لے کر آجاتے ہیں مگر وزیٹر بہت کم آتے ہیں مجھے آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

عزیز نے پوچھا آپ کیا یہاں کے پادری ہیں؟

’’نہیں، پادری صاحب تو یہاں نہیں ہیں۔ میں یہاں کا ایڈمنسٹریٹر ہوں اور گائیڈ بھی ہوں۔ میرا نام بل کاسن ہے۔ آپ مجھے اس نام سے مخاطب کرسکتے ہیں۔‘‘ بل کاسن کی عمر بھی چالیس پینتالیس سال سے زیادہ نہیں تھی اور وہ دبلا پتلا پھرتیلا آدمی تھا۔ اس نے ہمیں چرچ کا مکمل دورہ کروایا۔

یہ چرچ انیسویں صدی کے درمیان بنا تھا اور اسے مسلمان سلطان نے تعمیر کروایا تھا اور پھر چرچ آف انگلینڈ کے زیرنگرانی دے دیا تھا۔ دل خوش ہوگیا ہم کبھی کسی چرچ میں اس طرح نہیں گئے تھے۔ البتہ اس چرچ کی خاموشی نے پراسراریت پیدا کردی تھی مگر بل کاسن کے آنے سے وہ بھی ختم ہوگئی تھی، کیوںکہ چرچ میں صرف سنڈے کی عبادت ہوتی ہے، اس لیے سارے ہفتے خاموشی کا راج رہتا ہے۔ ہماری مسجدوں میں روزانہ پانچ وقت عبادت ہوتی ہے اس لیے مسلسل لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے خیر یہ تو اپنے اپنے عبادت کے طریقے ہیں مگر گائیڈ اچھا ہو تو ڈر نہیں لگتا۔ ہم نے دیکھا کریمین وار کے فوجیوں کی یاد میں وہاں بھی ایک تختی اور صلیب لگی ہوئی تھی۔ بل کاسن نے ہمیں وہاں لے جانے کی کوشش نہیں کی صرف چرچ کی خوب صورتی دکھاتا رہا۔

شام ڈھلنا شروع ہوگئی تھی ہم گائیڈ سے اجازت لے کر باہر آگئے مگر ابھی Galata ٹاور جانے کے لیے چڑھائی کا مرحلہ باقی تھا۔ Galata ٹاور بھی baygulu کے علاقے میں واقع ہے۔ میرے تو پیروں کی جان نکل رہی تھی اور اب سر میں بھی درد شروع ہوچکا تھا اصل میں چائے کی طلب ہورہی تھی۔

ہم ابھی چرچ سے نکل کر تھوڑی چڑھائی چڑھے تھے کہ بالکل کونے پر ایک چائے کا ڈھابا نظر آگیا۔ ہم اسے ڈھابا اس لیے کہہ رہے ہیں وہاں صرف چائے ہی ملتی تھی مگر بنا بہت اسٹائلش تھا۔ لکڑ کی سیڑھیاں اور ستون اور ستونوں پر بل کھاتی سرسبز سرخ نارنجی اور پیلے نیلے پھولوں والی بیلیں چھت سے لٹکتے ہوئے رنگین شیشوں والے لیمپ اور مصنوعی گملے، عجیب خواب ناک سا ماحول تھا۔ لیمپ روشن نہیں تھے کیوںکہ دن کی روشنی کافی تھی۔ ماحول بہت خوب صورت تھا۔

رات کے وقت تو واقعی بہت خوب صورت منظر ہوگا۔ ہمیں تو یہاں تھوڑی دیر سستانا تھا۔ چائے پینی تھی اور آگے بڑھ جانا تھا۔

یہ ہمارا استنبول میں آخری دن تھا۔ ہمارے ہوٹل کی انقرہ میں بکنگ ہوچکی تھی۔ ہم چائے پی کر خاصے تازہ دم ہوچکے تھے۔ لیکن ہم جیسے ہی baygulu کی طرف آئے۔ لائن سے چائے کے ڈھابے نظر آئے جو تقریباً ایک ہی طرح سے بنائے گئے تھے۔ کچھ میں کھانے کا انتظام بھی تھا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا حالاں کہ بہت بھوک لگی تھی۔ عزیز کی تو چل پھر کر استنبول دیکھنے کی خواہش پوری ہورہی تھی مگر میرا تو پیدل چل کر دم نکل رہا تھا۔

مگر وہاں تو معاملہ ہی مختلف نظر آرہا تھا۔ ایک طرف ہوٹل چائے کے ڈھابے تھے تو دوسری طرف میوزک کے آلات کی دکانیں ایک سے ایک بڑی اور شان دار، عزیز نے جب دام پوچھے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہزاروں اور لاکھوں میں ان کی قیمتیں تھیں۔ ہمارے سیدھے ہاتھ پر پرانے زمانے کی ایک ٹرام کھڑی تھی۔ بالکل ایسی ہی ٹرام ہمارے بچپن میں کراچی میں چلا کرتی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس کا رنگ سبز اور اس کا لال تھا۔ وہی صرف جو پاکستان اور ترکی کے جھنڈے کے رنگ میں ہے۔ ہمارا سبز پرچم اور ترکی کا سرخ پرچم ہے۔ یہ ٹرام استنبول کے رہائشی علاقے کی طرف جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی ابھی پوری طرح بھری نہیں تھی زیادہ اس میں بچے اور عورتیں سوار تھیں۔ نو عمر بچوں کا وہی انداز تھا جو بچپن میں ہمارا ہوتا تھا ایک طرف سے چڑھتے تھے اور دوسری طرف سے اتر جاتے تھے اور جب ٹرام چل رہی ہوتی تو بھی بھاگ کر اس میں سوار ہوجاتے تھے، کیوںکہ وہ بہت ہلکی رفتار سے چلتی تھی۔

آج ٹرام دیکھ کر بچپن کی یاد آگئی۔ وہ ٹرام پَٹّا بھی ویسا ہی تھا جو صدر کے علاقے میں ہوتا تھا۔ دوسرے ملکوں نے اپنے ورثے کو تباہ نہیں کیا لیکن ہم وہ قوم ہیں جو اپنا خزانہ لٹائے بیٹھے ہیں۔ عزیز کہنے لگا،’’اماں! یہ ٹرام کتنی اچھی لگ رہی ہے، کافی پرانی ہے۔‘‘

میں نے اسے بتایا کہ ہمارے بچپن میں کراچی میں بھی ایسی ٹرام چلتی تھی۔

استنبول میں ٹرام دونوں سائیڈ پر 1860ء میں شروع ہوئی تھی جسے گھوڑے کھینچتے تھے مگر 1912ء میں ٹرام سسٹم کو ایئربک ٹرام سسٹم میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ سسٹم ابھی دونوں سائیڈ پر چل رہا ہے مگر پرانی ٹرام بھی مغربی حصے میں چل رہی ہے۔ روٹ وہی پرانا ہے مگر ٹکٹ کا نظام، نئے نظام سے منسلک کردیا گیا ہے۔ لوگ سفروتفریح کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ ہم بھی اس پرانی ٹرام سفر کریں مگر وقت کی کمی آڑے آگئی تھی۔

ہم Galata ٹاور آگئے دور سے دیکھنے سے یہ پتھر کا بنا ہوا معمولی سا ٹاور تھا مگر اس کی تاریخ رومن عہد سے جاکر ملتی ہے۔ یہ استنبول کا سب سے اونچا ٹاور ہے اور ایک طرح سے استنبول کے مشرقی حصے کی پہچان ہے اور سمندر سے بھی یہ ٹاور نظر آتا ہے۔

سب سے پہلے اسے بازنطینی عہد میں لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا۔ 1204ء میں زلزلے میں یہ ٹاور تباہ ہوگیا تو پھر اسے دوبارہ پتھر سے تعمیر کیا گیا۔ خلافت کے زمانے میں کچھ عرصہ یہ جیل بھی بنا رہا تھا، پھر اسے ترکی کے جمہوریہ بننے کے بعد اسے پبلک کے لیے کھول دیا گیا۔ اب اس میں لفٹ لگی ہوئی ہے اور سیاح اس ٹاور سے استنبول کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس کا نام Galata ٹاور گوالوں کی وجہ سے پڑا کیوںکہ اس ٹاور کے آس پاس انجیر کے باغات تھے اور گوالے اپنی گائے اس ٹاور کے آس پاس پالتے تھے اور شہر کو دودھ سپلائی کرتے تھے۔ مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ سورج تیزی سے مغربی سمت بڑھ رہا تھا۔ Bygulu میں سمندر کے بالکل سامنے بہت چوڑی سیڑھیاں بنی تھیں اور اس پر نیچی بینچیں لگیں ہوئی تھیں۔ یہ اہتمام ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے کے لیے تھا۔ یہ سیڑھیاں کسی آرینا کی طرح لگ رہی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا لوگ کوئی میچ دیکھ رہے ہیں۔ سامنے تھال کی طرح چمکتا سورج تھا جو مغرب میں غروب ہورہا تھا۔ پورا سمندر شفق رنگ ہورہا تھا۔ ہم نے اس سے خوب صورت سورج ڈوبنے کا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔ سامنے استنبول کا مغربی حصہ تھا اور مسجدوں کے مینار سورج کو اپنے دامن میں سمیٹ رہے تھے۔ کسی مسجد سے اذان بلند ہورہی تھی اور ہم رومن عہد کے مشرقی حصے میں بیٹھ کے خلافت کے عہد کے عظیم و شان دار عمارتوں اور مسجدوں کو دیکھ رہے تھے مگر عہدخلافت کا شان دار ماضی ابھی بھی ان عمارتوں میں زندہ ہے اور اپنی عظمت کی داستان سنا رہا ہے۔ یہاں ہمارے نویں پڑاؤ کا اختتام ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں