ہارٹ اٹیک کا شکار خاتون کو بچاتے بچاتے طبی اہلکار کو ہی ہارٹ اٹیک ہوگیا


بیڈفورڈشائر: برطانیہ میں ایک طبی اہلکار دل کا دورہ پڑنے والی خاتون کا علاج کرنے کے دوران خود ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہوگیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بیڈفورڈشائر سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ خاتون ڈیزی ڈیوانے کو اپنے گھر میں دل کا دورہ پڑا اور وہ بیہوش ہوکر صوفے پر ہی گرگئیں۔

ان کے 33 سالہ ساتھی ایمون نے فوری طور پر ایمبولینس سروس کو کال کی اور ان کے پہنچنے سے پہلے انہوں نے ڈیزی پر خود بھی سی پی آر پرفارم کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔
طبی عملے کے پہنچنے کے بعد 55 سالہ سینئر ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن، جیریمی ولیمز نے ڈیزی کے سینے کو دبانا شروع کر دیا لیکن اس دوران انہیں اچانک اپنے سینے میں شدید درد محسوس ہوا اور وہ وہیں خاتون کے پاس ہی گرگئے۔

ان کے ساتھی فوراً جان گئے کہ انہیں بھی دل کا دورہ پڑا ہے جس پر انہوں نے فوری طور پر جیریمی کو الیکٹروکارڈیوگرام دیا اور دونوں افراد کو اسپتال لے آئے۔

موقع پر موجود عملے کے ایک رکن، شان وِٹنگٹن نے کہا کہ جیریمی کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر ایک وقت میں انتہائی حد تک گر گیا تھا اور ہم نے سوچا کہ بس اس کا دل بند ہونے والا ہے۔

ویلیمز کی ہنگامی سرجری ہوئی جس میں ان کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ دور کرنے کیلئے دو اسٹینٹس لگائے گئے جبکہ ڈیزی 33 دن اسپتال میں زیرِعلاج رہیں۔

دونوں اب ٹھیک ہیں اور ہوش میں آنے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے سے ملاقات بھی کی۔ اگرچہ ڈیزی تین ہفتوں کی یادداشت کھو بیٹھی ہیں لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ ویلیمز اور دیگر عملے کی بہت شکر گزار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں